حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق کا آغاز
ایف سی کالج لاہور میں دورانِ تعلیم حضرت سلطان باھوؒ کے احوال و آثار پر باقاعدہ توجہ کا آغاز کرتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں ذکر کیا ہے۔
۱۹۵۸ء میں آغاز سے لے کر بعد کے تراجم، مطالعات اور تصانیف تک، حضرت سلطان باھوؒ پر پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی تحقیق کا سفر دیکھیے۔
مرکزی تحقیق کے ساتھ تعلیم، تدریس اور دیگر ادبی خدمات کے مراحل بھی یہاں شامل ہیں۔ یہ معلومات ان کے پیشہ ورانہ کوائف اور قیصر بھٹی کے سوانحی مطالعے سے لی گئی ہیں۔
ایف سی کالج لاہور میں دورانِ تعلیم حضرت سلطان باھوؒ کے احوال و آثار پر باقاعدہ توجہ کا آغاز کرتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں ذکر کیا ہے۔
پیشہ ورانہ کوائف میں یہ سند جامعہ پنجاب، لاہور کے تحت درج ہے۔
جامعہ پنجاب، لاہور سے قانون کی سند حاصل کرتے ہیں۔
جامعہ پنجاب، لاہور سے سیاسیات میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔
جامعہ پنجاب، لاہور سے فارسی میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔
تعلیمی سروس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس دور میں تدریس، کالجوں کی سربراہی اور نصابی کتب کی تیاری کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
پاک ایران کے ڈھائی ہزار سالہ ثقافتی تعلقات سے متعلق فارسی تصنیف اسلامیہ پریس، کوئٹہ سے شائع ہوتی ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ کے ابیات کے اردو ترجمے اور شرح کا پہلا ایڈیشن شائع ہوتا ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےاپنی اشاعتی زندگی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ حاصل کرتے ہیں۔
ستمبر ۱۹۷۵ء سے جنوری ۱۹۷۶ء تک جدید فارسی کے چار ماہ کے تربیتی پروگرام میں شریک ہوتے ہیں۔
بزمِ باھو، لاہور میں حضرت سلطان باھوؒ کے افکار اور تصانیف پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے متعلق تحقیقی دورے میں ڈاکٹریٹ کے کام کے لیے مواد جمع کرتے ہیں۔
حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار پر تحقیق کے بعد جامعہ پنجاب انہیں فارسی ادب کی پی ایچ ڈی عطا کرتی ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ کے فارسی کلام کا ان کا اردو ترجمہ شائع ہوتا ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےپیشہ ورانہ کوائف میں بہارِ آزادی گولڈ میڈل ان کے علمی و ادبی اعزازات میں درج ہے۔
پیشہ ورانہ کوائف کے مطابق حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیقی مقالہ مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، اسلام آباد سے شائع ہوتا ہے۔
صوفیانہ فکر اور تاریخ پر ان کی دیگر تحقیق کے ضمن میں حلاج پر تصنیف شائع ہوتی ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیے۲۹ فروری ۲۰۰۰ء کو بلوچستان کی تعلیمی سروس سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ تدریسی خدمات کے بعد تحقیق اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
شہید بہشتی یونیورسٹی، تہران میں حضرت سلطان باھوؒ کے افکار کی پاکیزگی اور ندرت پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔
صدارتی اعزازِ فضیلت حاصل کرتے ہیں، جو ان کے علمی و ادبی اعزازات میں درج ہے۔
پیشہ ورانہ کوائف میں ۲۰۰۵ء سے بطور ڈائریکٹر خدمات درج ہیں۔ یہ ادارہ تحقیق، تراجم اور شروح کی اشاعت کا ذریعہ ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عہدِ عالمگیر میں حضرت سلطان باھوؒ کی فارسی کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔
سیف ہروی کی فارسی تاریخِ ہرات کے ان کے اردو ترجمے کی نئی اشاعت سامنے آتی ہے۔ پیشہ ورانہ کوائف میں پہلے ایڈیشن کا سال ۱۹۸۸ء درج ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےحضرت سلطان باھوؒ سے متعلق تحقیقی کام باھو شناسی کی پہلی جلد میں یکجا ہوتا ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےسیرت، رومی، اقبال اور پاکستان سے متعلق چار حصوں پر مشتمل تصنیف شائع ہوتی ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےحضرت سلطان باھوؒ کے فارسی رسالے کا ان کا اردو ترجمہ شائع ہوتا ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےپیشہ ورانہ کوائف میں ۱۸ ستمبر ۲۰۱۵ء کو خدمات کے اعتراف کا اندراج ہے۔ تعلیمی سروس سے ان کی سبکدوشی ۲۰۰۰ء میں ہوئی تھی۔
اقبال کے فلسفۂ خودی پر تصنیف شائع ہوتی ہے، جس میں اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی کا مطالعہ شامل ہے۔
متعلقہ کتاب دیکھیےپیشہ ورانہ کوائف میں یہ اعزاز ۲۳ مارچ ۲۰۲۱ء کی تاریخ کے ساتھ درج ہے۔