علمی سفر

حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق کا عمر بھر کا سفر

۱۹۵۸ء میں آغاز سے لے کر بعد کے تراجم، مطالعات اور تصانیف تک، حضرت سلطان باھوؒ پر پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی تحقیق کا سفر دیکھیے۔

مرکزی تحقیق کے ساتھ تعلیم، تدریس اور دیگر ادبی خدمات کے مراحل بھی یہاں شامل ہیں۔ یہ معلومات ان کے پیشہ ورانہ کوائف اور قیصر بھٹی کے سوانحی مطالعے سے لی گئی ہیں۔

۱۹۵۰s

۱۹۵۸
تحقیق

حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق کا آغاز

ایف سی کالج لاہور میں دورانِ تعلیم حضرت سلطان باھوؒ کے احوال و آثار پر باقاعدہ توجہ کا آغاز کرتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں ذکر کیا ہے۔

۱۹۶۰s

۱۹۶۱
تعلیم

بی اے آنرز، فارسی و آرٹس

پیشہ ورانہ کوائف میں یہ سند جامعہ پنجاب، لاہور کے تحت درج ہے۔

۱۹۶۳
تعلیم

ایل ایل بی

جامعہ پنجاب، لاہور سے قانون کی سند حاصل کرتے ہیں۔

۱۹۶۴
تعلیم

ایم اے سیاسیات

جامعہ پنجاب، لاہور سے سیاسیات میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔

۱۹۶۶
تعلیم

ایم اے فارسی

جامعہ پنجاب، لاہور سے فارسی میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔

۱۹۶۸
تعلیمی خدمات

بلوچستان میں تدریسی خدمات کا آغاز

تعلیمی سروس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس دور میں تدریس، کالجوں کی سربراہی اور نصابی کتب کی تیاری کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

۱۹۷۰s

۱۹۷۱
تصانیف

پاک ایران ثقافتی تعلقات پر تصنیف

پاک ایران کے ڈھائی ہزار سالہ ثقافتی تعلقات سے متعلق فارسی تصنیف اسلامیہ پریس، کوئٹہ سے شائع ہوتی ہے۔

۱۹۷۵
تراجم

ابیات باھو: ترجمہ و شرح

حضرت سلطان باھوؒ کے ابیات کے اردو ترجمے اور شرح کا پہلا ایڈیشن شائع ہوتا ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے
۱۹۷۵
اعزازات

پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ

اپنی اشاعتی زندگی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ حاصل کرتے ہیں۔

۱۹۷۵
بین الاقوامی دورے

تہران میں جدید فارسی کی تربیت

ستمبر ۱۹۷۵ء سے جنوری ۱۹۷۶ء تک جدید فارسی کے چار ماہ کے تربیتی پروگرام میں شریک ہوتے ہیں۔

۱۹۷۷
کانفرنسز

حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیقی مقالے کی پیشکش

بزمِ باھو، لاہور میں حضرت سلطان باھوؒ کے افکار اور تصانیف پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔

۱۹۷۷
بین الاقوامی دورے

افغانستان کا تحقیقی دورہ

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے متعلق تحقیقی دورے میں ڈاکٹریٹ کے کام کے لیے مواد جمع کرتے ہیں۔

۱۹۸۰s

۱۹۸۷
تعلیم

حضرت سلطان باھوؒ پر ڈاکٹریٹ

حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار پر تحقیق کے بعد جامعہ پنجاب انہیں فارسی ادب کی پی ایچ ڈی عطا کرتی ہے۔

۱۹۹۰s

۱۹۹۱
تراجم

دیوان باھو کا اردو ترجمہ

حضرت سلطان باھوؒ کے فارسی کلام کا ان کا اردو ترجمہ شائع ہوتا ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے
۱۹۹۱
اعزازات

بہارِ آزادی گولڈ میڈل

پیشہ ورانہ کوائف میں بہارِ آزادی گولڈ میڈل ان کے علمی و ادبی اعزازات میں درج ہے۔

۱۹۹۳
تصانیف

ڈاکٹریٹ کی تحقیق کی فارسی اشاعت

پیشہ ورانہ کوائف کے مطابق حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیقی مقالہ مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، اسلام آباد سے شائع ہوتا ہے۔

۱۹۹۵
تصانیف

حسین بن منصور حلاج کی اشاعت

صوفیانہ فکر اور تاریخ پر ان کی دیگر تحقیق کے ضمن میں حلاج پر تصنیف شائع ہوتی ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے

۲۰۰۰s

۲۰۰۰
تعلیمی خدمات

بتیس سالہ خدمات کے بعد سبکدوشی

۲۹ فروری ۲۰۰۰ء کو بلوچستان کی تعلیمی سروس سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ تدریسی خدمات کے بعد تحقیق اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

۲۰۰۰
کانفرنسز

تہران میں حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق کی پیشکش

شہید بہشتی یونیورسٹی، تہران میں حضرت سلطان باھوؒ کے افکار کی پاکیزگی اور ندرت پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔

۲۰۰۲
اعزازات

صدارتی اعزازِ فضیلت

صدارتی اعزازِ فضیلت حاصل کرتے ہیں، جو ان کے علمی و ادبی اعزازات میں درج ہے۔

۲۰۰۵
تعلیمی خدمات

باھو پبلیکیشنز کی نظامت

پیشہ ورانہ کوائف میں ۲۰۰۵ء سے بطور ڈائریکٹر خدمات درج ہیں۔ یہ ادارہ تحقیق، تراجم اور شروح کی اشاعت کا ذریعہ ہے۔

۲۰۰۵
بین الاقوامی دورے

حضرت سلطان باھوؒ کی فارسی پر مقالہ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عہدِ عالمگیر میں حضرت سلطان باھوؒ کی فارسی کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہیں۔

۲۰۰۹
تراجم

تاریخ نامہ ہرات کی نئی اشاعت

سیف ہروی کی فارسی تاریخِ ہرات کے ان کے اردو ترجمے کی نئی اشاعت سامنے آتی ہے۔ پیشہ ورانہ کوائف میں پہلے ایڈیشن کا سال ۱۹۸۸ء درج ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے

۲۰۱۰s

۲۰۱۱
تحقیق

باھو شناسی، جلد اول

حضرت سلطان باھوؒ سے متعلق تحقیقی کام باھو شناسی کی پہلی جلد میں یکجا ہوتا ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے
۲۰۱۲
تصانیف

برکات سیرت النبی ﷺ

سیرت، رومی، اقبال اور پاکستان سے متعلق چار حصوں پر مشتمل تصنیف شائع ہوتی ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے
۲۰۱۳
تراجم

سلطان الوہم کا اردو ترجمہ

حضرت سلطان باھوؒ کے فارسی رسالے کا ان کا اردو ترجمہ شائع ہوتا ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے
۲۰۱۵
اعزازات

تعلیمی خدمات کا اعتراف

پیشہ ورانہ کوائف میں ۱۸ ستمبر ۲۰۱۵ء کو خدمات کے اعتراف کا اندراج ہے۔ تعلیمی سروس سے ان کی سبکدوشی ۲۰۰۰ء میں ہوئی تھی۔

۲۰۱۶
تصانیف

تفہیم خودی

اقبال کے فلسفۂ خودی پر تصنیف شائع ہوتی ہے، جس میں اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی کا مطالعہ شامل ہے۔

متعلقہ کتاب دیکھیے

۲۰۲۰s

۲۰۲۱
اعزازات

صوبائی اعزازِ فضیلت

پیشہ ورانہ کوائف میں یہ اعزاز ۲۳ مارچ ۲۰۲۱ء کی تاریخ کے ساتھ درج ہے۔