سوانح حیات

حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق کے نام ایک زندگی

پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے اپنی علمی زندگی حضرت سلطان باھوؒ کی تحقیق کے لیے وقف کی۔ حیات و تعلیمات کا مطالعہ، تصانیف کی تحقیق، اور ان کے اردو تراجم و شروح اس مسلسل علمی کام کے بنیادی پہلو ہیں۔

آغازِ تحقیق
۱۹۵۸ء
ترجمۂ ابیات
۱۹۷۵ء
ڈاکٹریٹ
۱۹۸۷ء
تعلیمی خدمات
۳۲ برس
Prof. Dr. Sultan Altaf Ali

علمی خدمات ایک نظر میں

مرکزِ تحقیق
حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، تصانیف اور افکار
علمی کام کی زبانیں
اردو، فارسی، سرائیکی اور انگریزی
ڈاکٹریٹ
فارسی ادب، جامعہ پنجاب، لاہور، ۱۹۸۷ء
تعلیمی خدمات
بلوچستان تعلیمی سروس، ۱۹۶۸ء تا ۲۰۰۰ء
اشاعتی ریکارڈ
پیشہ ورانہ کوائف میں ۴۶ اشاعتی اندراجات اور ۸۹ مضامین
اشاعت
۲۰۰۵ء سے باھو پبلیکیشنز کے ڈائریکٹر

پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کے لیے حضرت سلطان باھوؒ کا مطالعہ خاندانی نسبت سے شروع ہو کر عمر بھر کی علمی جستجو بن گیا۔ انہوں نے تاریخی تحقیق، قلمی نسخوں کے مطالعے، فارسی نثر اور سرائیکی کلام کی تفہیم کے ذریعے اس موضوع پر کام کیا۔

ان کی توجہ متن کی درست قرأت اور اس کے مفہوم کو اردو قارئین تک پہنچانے پر رہی۔ ابیات باھو، دیوان باھو، رسالہ روحی اور مرآت سلطانی سمیت متعدد تراجم، شروح اور تحقیقی تصانیف اسی محنت کا حاصل ہیں۔ تصوف، فارسی ادب اور اقبالیات پر ان کی تحریریں بھی اس علمی زندگی کا حصہ ہیں۔

حضرت سلطان باھوؒ سے خاندانی نسبت

پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی ۱۹۳۸ء میں دربار حضرت سلطان باھوؒ، ضلع جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اعوان خاندان سے ہے، جسے قیصر بھٹی نے اپنی تحقیق میں نویں پشت میں خانوادۂ حضرت سلطان باھوؒ سے منسوب کیا ہے۔

ان کے والد سلطان محمد نواز صوفی عالم اور شاعر تھے۔ والد کا انتقال اس وقت ہوا جب ڈاکٹر صاحب صرف چالیس دن کے تھے۔ ان کی پرورش اور تعلیم کی بڑی ذمہ داری ان کے بڑے بھائی پیر غلام دستگیر قادری، المعروف فخرِ کشمیر، نے سنبھالی۔ خاندانی حالات میں ان کی والدہ کا نام خدیجہ بی بی درج ہے۔

ابتدائی تعلیم میں قرآن مجید اور فارسی کا مطالعہ شامل تھا۔ بعد میں وہ ایف سی کالج لاہور میں زیرِ تعلیم رہے، جہاں ان کے اپنے بیان کے مطابق ۱۹۵۸ء میں حضرت سلطان باھوؒ کے احوال و آثار پر باقاعدہ توجہ کا آغاز ہوا۔

تعلیم سے حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیق تک

ان کی جامعاتی تعلیم میں فارسی، قانون اور سیاسیات شامل ہیں۔ انہوں نے ۱۹۶۱ء میں بی اے آنرز، ۱۹۶۳ء میں ایل ایل بی، ۱۹۶۴ء میں ایم اے سیاسیات اور ۱۹۶۶ء میں ایم اے فارسی کی اسناد حاصل کیں۔ پیشہ ورانہ کوائف میں ان اسناد کے لیے جامعہ پنجاب، لاہور درج ہے۔

اعلیٰ تحقیق کے لیے انہوں نے فارسی کو منتخب کیا۔ ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۷ء کے دوران حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار پر ڈاکٹریٹ کا کام کیا، جس پر جامعہ پنجاب نے ۱۹۸۷ء میں فارسی ادب کی پی ایچ ڈی عطا کی۔ ان کے اپنے بیان اور خاندان کی روایت کے مطابق یہ پاکستان میں حضرت سلطان باھوؒ پر پہلی ڈاکٹریٹ تھی۔

  1. ۱۹۶۱بی اے آنرز، فارسی و آرٹسپیشہ ورانہ کوائف میں یہ سند جامعہ پنجاب، لاہور کے تحت درج ہے۔
  2. ۱۹۶۳ایل ایل بیجامعہ پنجاب، لاہور سے قانون کی سند حاصل کرتے ہیں۔
  3. ۱۹۶۴ایم اے سیاسیاتجامعہ پنجاب، لاہور سے سیاسیات میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔
  4. ۱۹۶۶ایم اے فارسیجامعہ پنجاب، لاہور سے فارسی میں ماسٹرز کی سند حاصل کرتے ہیں۔
  5. ۱۹۸۷حضرت سلطان باھوؒ پر ڈاکٹریٹحضرت سلطان باھوؒ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار پر تحقیق کے بعد جامعہ پنجاب انہیں فارسی ادب کی پی ایچ ڈی عطا کرتی ہے۔

تدریسی خدمات اور باھو شناسی کا تسلسل

پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی ۱۹۶۸ء میں بلوچستان کی تعلیمی سروس سے وابستہ ہوئے اور ۲۹ فروری ۲۰۰۰ء کو سبکدوش ہوئے۔ بتیس برس کے دوران انہوں نے لیکچرر، پروفیسر، پرنسپل اور تعلیمی منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ تحقیق اور ترجمے کا کام بھی جاری رکھا۔

ان کی تقرریاں فورٹ سنڈیمن، مستونگ، کوئٹہ، بارکھان، اوستہ محمد اور خضدار کے تعلیمی اداروں اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کوئٹہ میں رہیں۔ وہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چئیرمین رہے۔ انہوں نے ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۳ء کے دوران جماعت ششم تا دہم کی فارسی نصابی کتب کی تیاری میں بھی حصہ لیا۔ فارسی کی تدریس اور اس کے متون پر تحقیق ان کی علمی زندگی کے باہم مربوط پہلو تھے۔

حضرت سلطان باھوؒ کی حیات و تصانیف پر تحقیق

ان کی تحقیق میں حضرت سلطان باھوؒ کی سوانح، تاریخی عہد، قلمی نسخے، فارسی تصانیف اور کلام میں بیان کردہ تعلیمات شامل ہیں۔ قیصر بھٹی نے مخطوطات کی تلاش اور ابیات کے رائج متن میں اختلافات کی تحقیق کے لیے ان کی محنت کا ذکر کیا ہے۔

مآخذ پر یہ توجہ ڈاکٹریٹ کے بعد بھی جاری رہی۔ تحقیقی مقالات، سوانحی مطالعات، مرآت سلطانی اور باھو شناسی جیسی تصانیف اسی موضوع کی مختلف جہتیں سامنے لاتی ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ کوائف میں مجموعی علمی کام کے ۴۶ اشاعتی اندراجات، ۸۹ مضامین اور بارہ کانفرنس و سیمینار مقالات درج ہیں۔ یہ اعداد ان کی تمام علمی خدمات کا ریکارڈ ہیں، صرف ایک موضوع پر کام کی تعداد نہیں۔

حضرت سلطان باھوؒ کی تصانیف کے اردو تراجم

۱۹۷۵ء میں پہلی بار شائع ہونے والا ابیات باھو کا اردو ترجمہ و شرح اس کام میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے متن اور مفہوم دونوں پر توجہ دی، تاکہ قاری حضرت سلطان باھوؒ کے کلام کی زبان اور تعلیمات کو سمجھ سکے۔

ان کے تراجم میں دیوان باھو، رسالہ روحی، شمس العارفین، سلطان الوہم، اورنگ شاہی اور گنج دین بھی شامل ہیں۔ قیصر بھٹی نے ان کی اردو کی سلاست، بامحاورہ انداز اور ترجمے کے ساتھ توضیح کے طریقے پر گفتگو کی ہے۔

اس مرکزی موضوع کے علاوہ انہوں نے سیف ہروی کی فارسی تاریخ، تاریخ نامہ ہرات، کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ پیشہ ورانہ کوائف میں اس کی ۱۹۸۸ء اور ۲۰۰۹ء کی اشاعتیں درج ہیں۔ یہ کام بھی فارسی متون سے ان کی دیرینہ علمی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت سلطان باھوؒ پر علمی کام کی اشاعت

باھو پبلیکیشنز ان کی تحقیق، تراجم اور شروح کی اشاعت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ پیشہ ورانہ کوائف میں ۲۰۰۵ء سے اس ادارے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ان کی خدمات درج ہیں۔

اس ویب سائٹ پر یکجا کی گئی کتب اور علمی معلومات قاری کو اس کام کے مطالعے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ کسی ایک تصنیف سے آغاز کیا جا سکتا ہے، کسی تحقیقی موضوع کو دیکھا جا سکتا ہے، یا مختلف ادوار میں ان کی علمی خدمات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔