پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کے لیے حضرت سلطان باھوؒ کا مطالعہ خاندانی نسبت سے شروع ہو کر عمر بھر کی علمی جستجو بن گیا۔ انہوں نے تاریخی تحقیق، قلمی نسخوں کے مطالعے، فارسی نثر اور سرائیکی کلام کی تفہیم کے ذریعے اس موضوع پر کام کیا۔
ان کی توجہ متن کی درست قرأت اور اس کے مفہوم کو اردو قارئین تک پہنچانے پر رہی۔ ابیات باھو، دیوان باھو، رسالہ روحی اور مرآت سلطانی سمیت متعدد تراجم، شروح اور تحقیقی تصانیف اسی محنت کا حاصل ہیں۔ تصوف، فارسی ادب اور اقبالیات پر ان کی تحریریں بھی اس علمی زندگی کا حصہ ہیں۔



