۱۹۵۸ء سے حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات اور تصانیف ان کی تحقیق کا مرکز ہیں۔ انہوں نے اردو تراجم اور شروح کے ذریعے کلامِ باھو کی تفہیم کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہے۔
حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا فارسی رسالہ، پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کے اردو ترجمے کے ساتھ۔ یہ کلامِ باھو کو اردو قارئین تک پہنچانے کی ان کی مسلسل علمی کاوش کا حصہ ہے، جس سے اصل متن کے مفہوم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
۱۹۸۷ء میں جامعہ پنجاب نے پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کو حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار پر تحقیق کے سلسلے میں فارسی ادب کی ڈاکٹریٹ عطا کی۔ یہ ۱۹۵۸ء سے جاری مطالعے کا ثمر تھا۔ اسی تحقیق نے آگے چل کر فارسی اور اردو میں مزید علمی کام کی بنیاد فراہم کی۔
خانوادۂ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے باھو شناسی کو اپنی زندگی کا بنیادی کام بنایا۔ انہوں نے سوانح، قلمی نسخوں اور تعلیمات پر تحقیق کے ساتھ تصانیف کے اردو تراجم پیش کیے۔
حق کی راہ میں ہر قدم پر علم بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
— حضرت سلطان باھوؒ، نور الھدیٰ
باقاعدہ مطالعے کا آغاز ۱۹۵۸ء میں ہوا۔ ۱۹۷۵ء میں ابیات باھو کا اردو ترجمہ و شرح شائع ہوا اور ۱۹۸۷ء میں ڈاکٹریٹ کی سند ملی۔ اس تحقیق کے ساتھ انہوں نے بتیس برس بلوچستان کے تعلیمی شعبے میں بھی خدمات انجام دیں۔
زبانیں
اردو · فارسی · سرائیکی · انگریزی
مرکزِ تحقیق
حضرت سلطان باھوؒ
مطبوعات کا ریکارڈ
۴۶ اشاعتی اندراجات · ۸۹ مضامین
حضرت سلطان باھوؒفارسی زبان و ادبتصوف اور اس کی تاریخترجمہ و شرحسیرت اور اسلامی فکرعلامہ اقبال کا فلسفۂ خودی
فارسی تصانیف اور سرائیکی ابیات کا سلیس اردو ترجمہ اور شرح۔
سیرت اور اسلامی فکر
سیرتِ نبوی ﷺ، تعلیم اور معاشرتی مسائل پر علمی تحریریں۔
علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی
اقبال کے فلسفۂ خودی اور صوفیانہ فکر سے اس کے تعلق کا مطالعہ۔
انہی کے الفاظ میں
ترجمے اور تحقیق پر ان کے خیالات
ان اقتباسات میں پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی اپنے علمی کام کے بارے میں بتاتے ہیں: ترجمہ قاری کو کیا دیتا ہے، اور حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر ان کی تحقیق کا آغاز کیسے ہوا۔
تصنیف و تالیف، تنقید و تبصرہ اور ترجمہ کے مابین ایک واضح فرق موجود ہے۔ … ہم ترجمے کی بدولت دنیا بھر کے مفکرین، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور سائنس دانوں کے خیالات و نظریات سے آگاہ ہو سکے ہیں۔
— دیباچہ، مرآت سلطانی
حضرت سلطان باھو کے آثار و احوال پر باقاعدہ توجہ ۱۹۵۸ء سے شروع ہوئی جب میں ایف سی کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا۔ ۱۹۶۰ء سے تو مضامین اور مقالے مجلوں اور روزناموں میں آنا شروع ہوئے۔
— قیصر بھٹی کی تحقیق سے اقتباس
کتب خانہ
علمی زندگی کا حاصل
حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر تحقیق، تراجم اور شروح کے ساتھ فارسی ادب، تصوف، تاریخ، سیرت اور اقبالیات پر پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی تصانیف۔
فارسی رسائل کے اردو تراجم، ابیات کی شرح، اور حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات و تعلیمات پر تحقیق؛ یہ مجموعہ پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی عمر بھر کی علمی محنت کا حاصل ہے۔
ابیات باھو سے
الف اللہ چنبے دی بوٹی، میرے من وچ مرشد لائی ہو
الف اللہ چنبے دی بوٹی — مرشد نے اسے میرے دل میں لگایا۔ ھو۔