تحقیقی مجموعہ

حضرت سلطان باھوؒ پر تحقیقی مجموعہ

پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کے علمی کام کا مرکزی حصہ: حضرت سلطان باھوؒ کی حیات و تعلیمات پر تحقیق، فارسی تصانیف کے اردو تراجم، اور ابیات کا مطالعہ و شرح۔

مجموعے میں شامل اندراجات
۲۶

اس مجموعے میں اصل تصانیف کے تراجم، پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی تحقیق اور اسی علمی روایت سے متعلق دیگر کتب شامل ہیں۔ جہاں ریکارڈ دستیاب ہے، اصل مصنف اور محقق، مترجم یا شارح کا تعارف الگ دیا گیا ہے۔

متون، تراجم اور تحقیق دیکھیے

حضرت سلطان باھوؒ کی تصانیف کا مطالعہ

اس مجموعے میں شامل تحقیق کا آغاز ۱۹۵۸ء میں ہوا اور مخطوطات، تاریخی بیانات، فارسی نثر اور ابیات کے مسلسل مطالعے کی صورت اختیار کرتا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی ۱۹۸۷ء کی ڈاکٹریٹ حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، فارسی تصانیف اور افکار سے متعلق تھی۔ بعد کی کتب اور مقالات میں بھی اسی موضوع کی مختلف جہتوں پر کام جاری رہا۔

ترجمہ اس تحقیق کا بنیادی حصہ ہے۔ اصل متون کے مطالعے کے ساتھ اردو تراجم اور توضیحات قاری کو ان کی زبان اور مفہوم سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ابیات باھو، دیوان باھو، رسالہ روحی اور مرآت سلطانی اس مجموعے کے مطالعے کے مختلف راستے فراہم کرتی ہیں۔

حضرت سلطان باھوؒ کے ابیات سے
الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو

اردو مفہوماسمِ اللہ چنبیلی کے پودے کی مانند ہے، جسے میرے مرشد نے میرے دل میں لگایا۔ ہو۔

— حضرت سلطان باھوؒ، ابیات باھو سے اقتباس، بحوالہ قیصر بھٹی، ص ۱۰۱